۱۳۸۹ شهریور ۲۷, شنبه

درگیری مبارزین با نیروهای جنایتکار رژیم در کوهستانهای بلوچستان

به گزارش خبرنگار آژانس خبری تفتان : دهها هلیکوپتر و جت جنگی همراه با چندین خودر شامل نیروهای انتظامی ، سپاه و بسیج به یکی از پایگاههای مبارزین در کوهستانهای بلوچستان حمله ور شده و در این عملیات تعدادی از نیروهای دشمن به هلاکت رسیدند و چندین خودرو رژیم منهدم شدند.
این درگیری از شب گذشته تا حالا ادامه دارد
اخبار تکمیلی متعاقبا اعلان خواهد شد

۱ نظر:

ناشناس گفت...

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

ایک سے کرتا نہیں کیوں دوسرا کچھ بات چیت
دیکھتا ھوں میں جسے وہ چپ تیری محفل میں ہے

اے شہید ملک و ملت میں تیرے اوپر نثار
اب تیری ہمت کا چرچہ غیر کی محفل میں ہے

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

وقت آنے دے بتا دیں گے تجہے اے آسمان
ہم ابھی سے کیا بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے

کھینج کر لائی ہے سب کو قتل ہونے کی امید
عاشقوں کا آج جمگھٹ کوچئہ قاتل میں ہے

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے


ہے لئے ہتھیار دشمن تاک میں بیٹھا ادھر
اور ہم تیار ھیں سینہ لئے اپنا ادھر
خون سے کھیلیں گے ہولی گر وطن مشکل میں ہے

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

ہاتھ جن میں ہو جنون کٹتے نہیں تلوار سے
سر جو اٹھ جاتے ہیں وہ جھکتے نہیں للکا ر سے
اور بھڑکے گا جو شعلہ سا ہمارے دل میں ہے

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

ہم جو گھر سے نکلے ہی تھے باندہ کے سر پہ کفن
جان ہتھیلی پر لئے لو، لے چلے ہیں یہ قدم
زندگی تو اپنی مہمان موت کی محفل میں ہے

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

یوں کھڑا مقتل میں قاتل کہہ رہا ہے بار بار
کیا تمناِ شہادت بھی کِسی کے دِل میں ہے

دل میں طوفانوں کی تولی اور نسوں میں انقلاب
ھوش دشمن کے اڑا دیں گے ھمیں روکو نہ آج
دور رہ پائے جو ہم سے دم کہاں منزل میں ہے

وہ جِسم بھی کیا جِسم ہے جس میں نہ ہو خونِ جنون
طوفانوں سے کیا لڑے جو کشتیِ ساحل میں ہے

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے